مسئلہ فلسطین اور تاریخی حقائق



     فلسطین جس کا ایک نام کنعان بھی ہے حقیقتاً سر زمینِ شام کا حصہ ہے۔ فلسطین کا شمار مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ہوتا ہے جسکے مغرب میں بحرِ روم، شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن اور جنوب میں مصر واقع ہے۔ فلسطین کی دارالحکومت یروشلم جبکہ سرکاری زبان عربی ہے۔ فلسطین اسلام، عیسائیت اور یہودیت تینوں مزاہب کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ واقعہ معراج اور مسجدِ اقصیٰ (قبلہ اول) کی وجہ سے یہ مسلمانوں کے لیے محترم و مقدس ہے، بیتُ المقدس سے قریب بیتُ اللحم میں حضرت *عیسیٰ علیہ السلام* کی پیدائش، پرورش اور نزولِ انجیل کی وجہ سے یہ عیسائیوں کی عقیدت کا مرکز بھی ہے۔ *داؤد اور سلیمان علیہما السلام* کی عظیم ترین سلطنتوں اور ہیکلِ سلیمانی کی وجہ سے فلسطین یہودیوں کے لیے بھی تعظیم و توقیر کا مقام ہے۔

      گزشتہ ٧٦ برس سے مسئلہ فلسطین قومی اخباروں سے لے کر عالمی اخباروں میں، ریڈیو سے لے کر ٹیلی ویژن میں، برطانوی پارلیمنٹ سے لے کر امریکی کانگریس میں، او آئی سی سے لے کر  یو این او میں، سیاسی ماہرین سے لے کر مذہبی مفکرین کے حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ دراصل پہلی جنگِ عظیم (١٩١٨-١٩١٤) میں سلطنتِ عثمانیہ اپنے وجود کو نہ بچا سکی اور بکھر کر رہ گئی جسکے نتیجے میں سلطنت کے مختلف علاقوں پر مختلف مغربی طاقتوں کا قبضہ ہوگیا اور فلسطین کی سر زمین برطانیہ کے زیرِ تسلط آ گئی۔ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ نے ١٩١٧ میں بلفور معاہدہ کا اعلان کیا جس میں انگریزی حکومت نے یہودیوں کے لیے قومی وطن کے قیام کا منصوبہ بنایا۔ حالانکہ اُس وقت یہودیوں کی تعداد ایک تہائی بھی نہیں تھی۔ دوسری جنگِ عظیم (١٩٣٩-١٩٤٥) کے بعد امریکہ نئی عالمی طاقت بن کر ابھرا اور تیل کی دریافت کے چلتے مشرقِ وسطیٰ عالمی تجارت میں کلیدی حیثیت اختیار کر گیا۔ ساتھ ہی امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ معاشی مفادات بھی مشرقِ وسطیٰ میں گہرے ہوتے چلے گئے۔ ان مفادات کو فروغ دینے کے لیے امریکہ اور یورپ کو خطے میں با اعتماد اتحادی کی حاجت تھی جسے یہودی ریاست کا وجود ہی پورا کر سکتا تھا۔

       ٩ نومبر ١٩٤٧ میں اقوامِ متحدہ کے ذریعے فلسطین کو تقسیم کر کے اسرائیل کو وجود میں لایا گیا۔ آبادی کم ہونے کے بعد بھی یہودیوں کے لیے زمین کا بڑا حصہ جبکہ مسلمانوں کے لیے دریائے اردن کا مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی ملا کر عرب ریاست تشکیل دی گئی۔ خاکہ طے پا چُکا تھا اب فقط صیہونی ریاست کا اعلان باقی تھا جو مئی ١٩٤٨ میں ہوا۔ اعلان ہوتے ہی پہلی عرب اسرائیل جنگ کا آغاز بھی ہو گیا۔ آپ اس کو یہودیوں کی حکمت کہیں یا سازش لیکن تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود عرب افواج شکست کھا گئیں اور یہودیوں نے اپنے تسلط کا دائرہ مزید وسیع کر لیا۔ جی توڑ جدو جہد کے بعد بھی یہودی مسجدِ اقصیٰ تک نہ پہنچ سکے کیونکہ اردن فوج کی مزاحمت توقع سے بڑھ کر تھی۔ حالات بگڑتے دیکھ ١٩٤٩ میں اقوامِ متحدہ نے عارضی جنگ بندی تو کرا دی لیکن مستقل حل نہ نکل سکا۔ ارضِ فلسطین پر نفرتوں کی چنگاریاں جلتی رہیں جنہوں نے جون ١٩٦٧ میں ایک بار پھر جنگ کی شکل اختیار کر لی۔ یہ جنگ چھ (٦) روز تک جاری رہی جس میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کو یکجا شکست دے کر غزہ کی پٹی پر بھی غلبہ حاصل کر لیا۔ اس جنگ نے تنازعے کو مزید پیچیدگی کی جانب دھکیل دیا۔ ١٩٧٣ میں شام اور مصر نے حکمت اور بہادری کے ساتھ دن کی روشنی میں اسرائیل پر زور دار حملہ بولا لیکن امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مداخلت سے کوئی نتیجہ نہ نکلنے کے بعد امن معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے اور مسئلہ فلسطین جوں کا توں رہا۔

ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عَرب کا
(علامہ اقبالؒ)

      فلسطین میں حالیہ جنگ جس کا بظاہر آغاز تو ٧ اکتوبر ٢٠٢٣ کو حماس کے عسکری ونگ القسام کی کاروائیوں کے بعد ہوا لیکن یہ کاروائیاں ٧ دہائیوں سے بدستور اسرائیلی دہشت گردی، ظُلم و سِتم اور غیر انسانی سلوک کا نتیجہ ہیں۔ اس جنگ کے نتائج گزرتے وقت کے ساتھ سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینوں کی تعداد چالیس ہزار (٤٠٠٠٠) سے تجاوز کر گئی ہے جس میں سولہ ہزار (١٦٠٠٠) سے زائد بچے اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق دس ہزار (١٠٠٠٠) سے زائد افراد ملبے میں دبے ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی گنتی بھی نوے ہزار (٩٠٠٠٠) سے تجاوز کر گئی ہے۔  اس سب کے بیچ مغربی ممالک اور امریکہ کا دوہرا معیار بھی دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک طرف وہ یوکرین پر روسی حملوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں اور دوسری طرف اسرائیلی بربریت اور فلسطینیوں کی نسل کُشی پر سکوت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں جنگ بندی کے حق میں مظاہرے زور پکڑتے جا رہے ہیں مگر اسرائیل نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں اور حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر کو بیروت میں شہید کر کے اپنے ارادے ظاہر کر دیے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کے حالیہ بیانات اور رفح  پر حملے بتا رہے ہیں کہ اہلِ فلسطین کو مصر منتقل کر کے غزہ کو اسرائیل میں ضم کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ 

ایک بار پھر طیبہ سے فلسطین میں
راستہ دیکھتی ہے مسجدِ اقصیٰ تیرا

عرفان شبیر سلطانی
متعلم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

Comments

Popular Posts